(۱۲۱۷۱) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَیْنِ ، فَقَالَ : إنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ وَمَا یُعَذَّبَانِ فِی کَبِیرٍ أَمَّا أَحَدُہُمَا ، فَکَانَ لاَ یَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ ، فَکَانَ یَمْشِی بِالنَّمِیمَۃِ ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِیدَۃً رَطْبَۃً فَشَقَّہَا نِصْفَیْنِ ، ثُمَّ غَرَسَ فِی کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَۃً ، فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ لِمَ فَعَلْت ہَذَا ؟ قَالَ : لَعَلَّہُ أن یُخَفِّفُ عَنْہُمَا مَا لَمْ یَیْبَسَا۔
(١٢١٧١) حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا : ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے، اور ان کو کسی بڑے کام کی وجہ سے عذاب نہیں ہو رہا، ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خور تھا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھجور کی گیلی ٹہنی لی اور اس کو چیر کردو کیا اور ہر ایک کی قبر پر ایک ایک گاڑھ دی، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کیوں کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید کہ ان کے عذاب میں کمی کردی جائے جب تک یہ گیلی رہیں۔