(۱۲۱۷۴) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ {یُثَبِّتُ اللَّہُ الَّذِینَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا} ، قَالَ : التَّثْبِیتُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا إذَا جَائَ الْمَلَکَانِ إلَی الرَّجُلِ فِی الْقَبْرِ فَقَالاَ لَہُ : مَنْ رَبُّک ؟ فَقَالَ : رَبِّی اللَّہُ ، قَالاَ : وَمَا دِینُک ؟ قَالَ : دِینِی الإِسْلاَمُ قَالاَ : وَمَنْ نَبِیُّک ؟ قَالَ نَبِیِّی مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَلِکَ التَّثْبِیتُ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔ (بخاری ۱۳۶۹۔ ابوداؤد ۴۷۱۷)
(١٢١٧٤) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } میں دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی سے مراد یہ ہے کہ جب قبر میں کسی شخص کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اس سے کہتے ہیں، تیرا رب کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے، وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کونسا ہے ؟ وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے، وہ پوچھتے ہیں تیرا نبی کون ہے ؟ وہ کہتا ہے میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، یہ دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی ہے۔