(۱۲۲۲۰) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃُ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ الشَّہِیدِ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، أَنَّ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانَ فِی نَبْشِ قُبُورٍ کَانَتْ فِی مَسْجِدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَہُ فَنَبَشَہَا وَأَخْرَجَہَا مِنَ الْمَسْجِدِ ، قَالَ وَإِنَّمَا کَانَتْ تُرِکَتْ فِی الْمَسْجِدِ لأَنَّہُ کَانَ فِی أَرَقَّائِ النَّاسِ قِلَّۃٌ۔
(١٢٢٢٠) حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت نے حضرت عثمان سے اجازت مانگی کہ جو قبریں مسجد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہیں ان کو اکھیڑ (کھود) دیا جائے، تو آپ نے ان کو اجازت دے دی، تو انھوں نے ان قبروں کو کھود کر مسجد سے نکال دیا (اور کہیں اور دفنا دیا) اور وہ قبریں مسجد میں اس لیے چھوڑی گئی تھی کہ لوگوں کی نرم زمینیں بہت کم تھیں۔