(۱۲۲۲۴) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ قَیْسٍ الأَسَدِیُّ ، سَمِعَاہ مِنْ عَلِیِّ بْنِ رَبِیعَۃَ الْوَالِبِیِّ ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ نِیحَ عَلَیْہِ بِالْکُوفَۃِ قَرَظَۃُ بْنُ کَعْبٍ الأَنْصَارِیُّ فَقَامَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : مَنْ نِیحَ عَلَیْہِ ، فَإِنَّہُ یُعَذَّبُ فِی قَبْرِہِ بِمَا نِیحَ عَلَیْہِ۔
(بخاری ۱۲۹۱۔ مسلم ۶۴۴)
(١٢٢٢٤) حضرت سعید بن عبید اور حضرت محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی بن ربیعہ الوالبی سے سنا کہ کوفہ میں سب سے پہلے مرنے والے پر نوحہ قرظہ بن کعب الانصاری نے کیا، حضرت مغیرہ بن شعبہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہیں ہوئے سنا کہ : جو شخص مرنے والے پر نوحہ کرتا ہے تو اس نوحہ کی وجہ سے اس کو قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔