(۱۲۲۴۶) حدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : لَمَّا أَتَتْ وَفَاۃُ جَعْفَرٍ عَرَفْنَا فِی وَجْہِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحُزْنَ فَدَخَلَ عَلَیْہِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ إنَّ النِّسَائَ یَبْکِینَ ، قَالَ : فَارْجِعْ إلَیْہِنَّ فَأَسْکِتْہُنَّ ، فَإِنْ أَبَیْنَ فَاحْثُ فِی وُجُوہِہِنَّ التُّرَابَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَقُلْت فِی نَفْسِی وَاللَّہِ لاَ تَرَکْت نَفْسَک ، وَلاَ أَنْتَ مُطِیعٌ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری ۱۲۹۹۔ مسلم ۶۴۴)
(١٢٢٤٦) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب حضرت جعفر کی وفات کی اطلاع آئی تو میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور پر غم کے اثرات دیکھے، ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! عورتیں رو رہی ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کی طرف جاؤ ان کو چپ کر اؤ اگر خاموش ہونے سے انکار کردیں تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے دل میں کہا خدا کی قسم تو نے اپنے نفس کو نہ چھوڑا اور نہ ہی تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مطیع ہے۔