(۱۲۲۶۳) حدَّثَنَا عَفَّانُ ، حدَّثَنَا وُہَیْبٌ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ وَہْبِ بْنِ کَیْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الأَزْرَقِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَۃٍ یُبْکَی عَلَیْہَا وَأَنَا مَعَہُ ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَانْتَہَرَ عُمَرُ اللاَّتِی یَبْکِینَ مَعَ الْجِنَازَۃِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : دَعْہُنَّ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَۃٌ وَالْعَیْنَ دَامِعَۃٌ وَالْعَہْدَ قَرِیبٌ۔ (احمد ۲/۴۰۸۔ عبدالرزاق ۶۶۷۴)
(١٢٢٦٣) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازہ گزرا جس کے ساتھ رونے والی عورتیں بھی تھیں میں اور حضرت عمر بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، حضرت عمر نے جنازے کے ساتھ رونے والیوں کو ڈانٹا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے خطاب کے بیٹے ! ان کو چھوڑ دو ، بیشک نفس مصیبت زدہ ہے، اور آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں اور وعدہ (مقرر وقت) قریب ہے۔