(۱۲۲۸۳) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ بَیَانٍ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : دَخَلَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ أَحْمَسَ مُصْمِتَۃٍ فِی خبائہا ، فَجَعَلَتْ تُشِیرُ إلَیْہِ ، وَلاَ تُکَلِّمُہُ ، فَقَالَ : مَا لَہَا لاَ تَتَکَلَّمُ ؟ فَقَالُوا : أَنَّہَا نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مُصْمِتَۃً ، فَقَالَ : تَکَلَّمِی فَإِنَّ ہَذَا لاَ یَحِلُّ لَکَ إنَّمَا ہَذَا مِنْ عَمَلِ الْجَاہِلِیَّۃِ۔
(١٢٢٨٣) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق احمس کی ایک خاتون کے پاس گئے جو اپنے خیمہ میں خاموش بیٹھی تھی، وہ آپ کی طرف اشارے کر رہی تھی لیکن بات نہیں کر رہی تھی، آپ نے پوچھا اس کو کیا ہوا یہ بات نہیں کر رہی ؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ وہ خاموش رہ کر حج کرے گی، آپ نے فرمایا : بات کر، یہ تیرے لیے جائز نہیں ہے، یہ جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔