(۱۲۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی مَرْوَانِ الأَسْلَمِیِّ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ کَعْبٍ ، قَالَ : قَالَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ : أَیْ رَبِّ أَقَرِیبٌ أَنْتَ فَأُنَاجِیک ، أَمْ بَعِیدٌ فَأُنَادِیک ؟ قَالَ : یَا مُوسَی ، أَنَا جَلِیسُ مَنْ ذَکَرَنِی ، قَالَ : یَا رَبِّ فَإِنَّا نَکُونُ مِنَ الْحَالِ عَلَی حَالٍ نُعَظِّمُک ، أَوْ نُجِلُّک أَنْ نَذْکُرَک عَلَیْہَا ؟ قَالَ : وَمَا ہِیَ ؟ قَالَ : الْجَنَابَۃُ وَالْغَائِطُ ، قَالَ : یَا مُوسَی ، اُذْکُرْنِی عَلَی کُلِّ حَالٍ۔
(١٢٣١) حضرت کعب فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ اے رب تو قریب ہے کہ میں تجھ سے سرگوشی کروں یا تو دور ہے کہ میں تجھے پکاروں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! جو میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ہم نشین ہوتا ہوں۔ موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! بعض اوقات ہم ایسی حالت میں ہوتے ہیں جس میں تیرا ذکر تیری عظمت اور تیرے جلال کے منافی ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون سی حالت ہے ؟ عرض کیا جنابت اور رفع حاجت کی حالت۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ ! ہر حال میں میرا ذکر کرو۔