(۱۲۳۱۳) وَکِیعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللَّہُ عَنْہُما ، قَالَ : النُّذُورُ أَرْبَعَۃٌ : مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ یُسَمِّہِ فَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ ، وَمَنْ نَذَرَ فِی مَعْصِیَۃٍ ، فَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِیمَا لاَ یُطِیقُ ، فَکَفَّارَتُہُ کَفَّارَۃُ یَمِینٍ ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِیمَا یُطِیقُ ، فَلْیُوفِ بِنَذْرِہِ۔ (ابوداؤد ۳۳۱۵۔ دارقطنی ۲)
(١٢٣١٣) حضرت عبداللہ بن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ نذر کی چار قسمیں ہیں کسی شخص نے نذر مانی لیکن اس کو متعین نہ کیا تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور کسی نے معصیت کی نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے نذر مانی اس چیز کی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے نذر مانی اس چیز کی جس کی وہ طاقت رکھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنی نذر پوری کرے۔