(۱۲۵۵۰) حدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أُذَیْنَۃَ ، قَالَ عُبَیْدُ اللہِ جَدّتَہُ ، وَقَالَ : مَالِکٌ : إنَّ أُمَّہُ جَعَلَتْ عَلَیْہَا الْمَشْیَ فَمَشَتْ حَتَّی انْتَہَتْ إلَی السُّقْیَا ، ثُمَّ عَجَزَتْ فَمَا مَشَتْ ، فَسَأَلْت ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : مُرُوہَا أَنْ تَعُودَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَتَمْشِیَ مِنْ حَیْثُ عَجَزَتْ۔
(١٢٥٥٠) حضرت عروہ بن اذینہ سے مروی ہے کہ حضرت عبید اللہ فرماتے ہیں اس کی دادی تھی اور حضرت مالک فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ تھی، انھوں نے نذر مانی کہ وہ پیدل چلے گی، پھر جب وہ چل کر سقیا مقام پر پہنچی تو مزید چلنے سے عاجز آگئی، میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کو حکم دو کہ اگلے سال دوبارہ آئے اور جہاں سے چلنے میں عاجز ہوئی ہے وہاں سے دوبارہ چلے۔