(۱۲۵۶۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنِ الْہُذَلِیِّ ، أَنَّ امْرَأَۃً نَذَرَتْ أَنْ تُسْرج فِی بَیْعَۃٍ وَہِیَ نَصْرَانِیَّۃٌ ، فَأَسْلَمَتْ فَأَرَادَتْ أَنْ تُوْفِیَ بنذْرِہَا ، قَالَ الْحَسَنُ وَقَتَادَۃُ : تُسْرج فِی مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِینَ ، وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ : لَیْسَ عَلَیْہَا شَیْئٌ ، فَعَرَضْت أَقَاوِیلَہُمْ عَلَی الشَّعْبِیِّ ، فَقَالَ : أَصَابَ الأَصَمُّ وَأَخْطَأَ صَاحِبَاکَ ، ہَدَمَ الإِسْلاَمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ۔
(١٢٥٦٦) حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ ایک عورت جو نصرانیہ تھی اس نے نذر مانی کہ وہ کنیسہ میں چراغ جلائے گی پھر وہ مسلمان ہوگئی پھر اس نے اپنی نذر پوری کرنے کا ارادہ کیا، حضرت حسن اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ تو مسلمانوں کی مسجدوں میں چراغ جلا لے، اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے اقوال حضرت شعبی کے سامنے بیان کیے تو آپ نے فرمایا : اونچا سننے والے (ابن سیرین) نے صحیح کہا ہے اور تیرے ساتھیوں سے غلطی ہوئی ہے، اسلام پچھلی چیزوں کو منہدم کردیتا ہے۔