(۱۲۵۷۲) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُد بْنُ أَبِی ہِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ: مَرَّتْ رُفْقَۃٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ، فَاشْتَرَوْا جَارِیَۃً فَأَعْتَقُوہَا ، فَطَرَحَتْ طُنًّا مِنْ قَصَبٍ عَلَی صَبِیٍّ فَقَتَلَتْہُ ، فَأُتِیَ بِہَا مَسْرُوقٌ ، فَقَالَ : الْتَمِسُوا أَوْلِیَائَہَا ، فَلَمْ یَجِدُوا أَحَدًا ، فَنَظَرَ سَاعَۃً وَتَفَکَّرَ ، وَقَالَ : قَالَ اللَّہُ : {فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ} اذْہَبِی فَصُومِی شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ، وَلاَ شَیْئَ لَہُمْ عَلَیْک۔
(١٢٥٧٢) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ میں اہل شام کے پاس سے ایک مرتبہ گذرا تو انھوں نے ایک باندی خرید کر اس کو آزاد کردیا، اس باندی نے لکڑیوں کی گٹھڑی ایک بچہ پر پھینکی جس کی وجہ سے وہ بچہ ہلاک ہوگیا، اسے حضرت مسروق کے پاس لایا گیا، آپ نے فرمایا اس کے اولیاء کو تلاش کرو، انھوں نے کسی کو نہ پایا، آپ کچھ دیر غور وفکر فرماتے رہے پھر فرمایا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے، { فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَھْرَیْنِ مُتَتَابِعِیْنِ } اس کو لے جاؤ اور اس سے ساٹھ روزے رکھواؤ، اور ان کے لیے اس پر کچھ نہیں ہے (جرمانہ وغیرہ) ۔