(۱۲۵۸۲) حدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مَاہَانَ التَّیْمِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ وَسُئِلَ عَنِ امْرَأَۃٍ نَذَرَتْ أَنْ تَنْحَرَ بَقَرَۃً ، أَلَہَا أَنْ تَبِیعَ جِلْدَہَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ ابْنُ أَشْوَعَ : لَکِنِّی لَسْت أَدْرِی ذَلِکَ ، فَقَالَ الشَّعْبِیُّ : لَوْ قُلْتُ لَحْمُہَا لَمْ یَکُنْ بِہِ بَأْسٌ ، إنَّمَا نَذَرَتْ دَمَہَا فَقَدْ أَہْرَقَتْ دَمَہَا۔
(١٢٥٨٢) حضرت مروان بن ماھان التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے گائے ذبح کرنے کی نذر مانی ہے کیا اس کے لیے اس کی کھال فروخت کرنا جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، حضرت ابن اشوع نے فرمایا : لیکن میں اس کو درست خیال نہیں کرتا، حضرت شعبی نے فرمایا : اگر تو کہے اس کا گوشت (فروخت کرنا) تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس نے خون کی نذر مانی تھی جو وہ بہا چکی ہے۔