(۱۲۵۸۵) حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ، عَنْ مُوسَی بْنِ مَعبَد ، أَنَّہُ کَانَ عَلَی امْرَأَۃٍ مِنْ أَہْلِہِ اعْتِکَافَ شَہْر فِی الْمَسْجِدِ ، فَاعْتَکَفَتْ تِسْعَۃً وَعِشْرِینَ یَوْمًا ، ثُمَّ حَاضَتْ فَرَجَعَتْ إلَی أَہْلِہَا ، ثُمَّ طَہُرَتْ فَوَقَعَ عَلَیْہَا زَوْجُہَا ، قَالَ : فَجِئْت سَالِمًا وَالْقَاسِمَ ، فَقَالا : اذْہَبْ إلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، ثُمَّ ائْتِنَا ، قَالَ : فَذَہَبْت إلَی سَعِیدٍ فَسَأَلْتُہُ ، فَقَالَ : خانا حَدًّا مِنْ حُدُودِ اللہِ ، وَأَخْطَاَ السُّنَّۃَ ، وَعَلَیْہَا أَنْ تَسْتَأْنِفَ ، قَالَ : فَرَجَعْت إلَی الْقَاسِمِ وَسَالِمٍ فَأَخْبَرْتُہُمَا بِمَا قَالَ : فَقَالاَ : ذَلِکَ رَأْیُنَا۔
(١٢٥٨٥) حضرت موسیٰ بن معبد فرماتے ہیں کہ ان کے اھل میں سے ایک عورت مہینے کے لیے مسجد میں اعتکاف بیٹھی، وہ انتیس دن بیٹھی تھی کہ اس کو حیض آگیا تو وہ اپنے گھر واپس آگئی پھر وہ پاک ہوئی تو اس کے شوہر نے اس سے شرعی ملاقات کرلی، حضرت موسیٰ کہتے ہیں کہ میں حضرت سالم اور حضرت قاسم کے پاس آیا، آپ دونوں نے مجھ سے فرمایا : پہلے حضرت سعید بن المسیب کے پاس جا پھر ہمارے پاس آنا، میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس آیا اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا : دونوں نے حدود اللہ میں خیانت کی ہے اور سنت کے خلاف کیا ہے، عورت پر لازم ہے کہ وہ پھر دوبارہ اعتکاف بیٹھے (شروع سے) حضرت موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں پھر حضرت سالم اور حضرت قاسم کے پاس گیا آپ کو بتایا جو انھوں نے کہا تھا، دونوں حضرات نے فرمایا یہی ہماری بھی رائے ہے۔