(۱۲۶۰۴) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ : کَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَقَبَۃٌ ، أَوْ نَسَمَۃٌ تُعْتِقُہَا مِنْ وَلَدِ إسْمَاعِیلَ ، قَالَ : فَقَدِمَ بسَبْی مِنَ الْیَمَنِ ، قَالَ مِسْعَرٌ : أَرَاہُ مِنْ قَبِیلَۃٍ، یُقَالُ لَہَا : خَوْلاَنُ ، قَالَ : فَنَہَاہَا أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ ، قَالَ : فَقَدِمَ بسَبْی مِنْ مُضَرَ ، أَرَاہُ ، قَالَ : مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ ، فَأَمَرَہَا أَنْ تُعْتِقَ مِنْہُمْ۔
(١٢٦٠٤) حضرت ابن معقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ پر اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا تھا، یمن سے کچھ قیدی آئے، مسعر راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ قبیلہ خولان کے تھے آپ کو ان میں سے آزاد کرنے سے منع کردیا گیا، پھر مضر سے کچھ قیدی آئے، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے وہ بنو عنبر کے تھے، پھر آپ کو حکم دیا کہ اس میں سے ایک آزاد کردو۔