(۱۲۶۱۰) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ وَسَأَلَہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إنِّی حَلَفْت عَلَی امْرَأَتِی أَنْ لاَ تَدْخُلَ علی أَہْلِہَا حِینًا ، فَقَالَ : الْحِینُ مَا بَیْنَ أَنْ تَطْلُعَ النَّخْلُ إلَی أَنْ تُثْمِرَ ، وَمَا بَیْنَ أَنْ تُثْمِرَ إلَی أَنْ تُطْلعَ ، فَقَالَ لَہُ سَعِیدٌ : {ضَرَبَ اللَّہُ مَثَلاً کَلِمَۃً} إلَی قَوْلِہِ : {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا}۔
(١٢٦١٠) حضرت عبد الرحمن بن حرملہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب سے ایک شخص نے سوال کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ اپنی بیوی سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے فرمایا الحین سے مراد کھجور ظاہر ہو کر پکنے تک کا درمیانی وقت ہے اور پک کر ظاہر ہونے تک کا درمیانی وقت ہے، حضرت سعید نے اس سے فرمایا : { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا کَلِمَۃً } سے لے کر { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } تک تلاوت فرمائی۔