(۱۲۶۵۴) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَجَائَتْہُ امْرَأَۃٌ ، فَقَالَتْ : إنِّی نَذَرْت أَنْ أَنْحَرَ ابْنِی ، فَقَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ : لاَ تَنْحَرِی ابْنَک وَکَفِّرِی عَنْ یَمِینِکِ ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّہُ لاَ وَفَائَ لِنَذْرٍ فِی مَعْصِیَۃٍ ، فَقَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ : أَلَیْسَ قَدْ قَالَ : اللَّہُ فِی الظِّہَارِ : {إنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنْکَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا} ثَمَّ قَالَ فِیہِ مِنَ الْکَفَّارَۃِ مَا سَمِعْت۔
(١٢٦٥٤) حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس تھا ایک عورت آئی اور عرض کیا میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنے بیٹے کو ذبح کروں گی، حضرت ابن عباس نے اس سے فرمایا اپنے بیٹے کو ذبح مت کر اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے، حضرت ابن عباس کے پاس ایک شخص موجود تھا اس نے کہا، معصیت والی نذر کا تو پورا کرنا نہیں ہے، (اور اس پر کفارہ بھی نہیں ہوتا) حضرت ابن عباس نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے مسئلہ ظہار میں نہیں فرمایا : { وَاِنَّہُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْکَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا } پھر فرمایا اس میں وہ کفارہ ہے جو تو نے سنا ہے۔