hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 12706

.

ابن أبي شيبة

12706
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۷۰۷) ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ہَلَکْت ، فَقَالَ : وَمَا أَہْلَکَک ؟ قَالَ : وَقَعْت عَلَی امْرَأَتِی فِی رَمَضَانَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَعْتِقْ رَقَبَۃً ، قَالَ : لاَ أَجِدُہَا ، فَقَالَ : صُمْ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ ، قَالَ : لاَ أَقْوَی ، قَالَ : فَأَطْعِمْ سِتِّینَ مِسْکِینًا ، قَالَ : لاَ أَجِدُ ، فَقَالَ : اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَیْنَمَا ہُوَ کَذَلِکَ إذْ أُتِیَ بِعَرْقٍ فِیہِ تَمْرٌ ، فَقَالَ لَہُ : النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اذْہَبْ فَتَصَدَّقْ بِہِ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ مَا بَیْنَ لاَبَتَیْہَا أَہْلُ بَیْتٍ أَحْوَجُ إلَیْہِ مِنَّا ، قَالَ : فَضَحِکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ أَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : انْطَلِقْ فَأَطْعِمْہُ عِیَالَک۔
(١٢٧٠٧) حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ھلاک ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کس نے تجھے ہلاک کردیا ؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : غلام آزاد کر، اس نے عرض کیا میں غلام نہیں پاتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھ لے، اس نے عرض کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے عرض کیا میں وہ بھی نہیں پاتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جا، وہ بیٹھ گیا اسی دوران حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کچھ کھجوریں آئیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اس کو لے جا اور جا کر صدقہ کر دے، اس نے عرض اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مدینہ کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان کوئی گھر ایسا نہیں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہو، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر اتنا مسکرائے کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے پھر فرمایا : یہ لے کر اپنے عیال کو کھلا دے۔