(۱۲۷۲۰) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَذَکَرَ أَنَّہُ احْتَرَقَ ، فَسَأَلَہُ عَنْ أَمْرِہِ ، فَذَکَرَ أَنَّہُ وَقَعَ عَلَی امْرَأَتِہِ فِی رَمَضَانَ ، فَأُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمِکْتَلٍ یُدْعَی الْعَرَقُ فِیہِ تَمْرٌ ، فَقَالَ : أَیْنَ الْمُحْتَرِقُ ؟ فَقَامَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ : تَصَدَّقْ بِہَذَا۔
(١٢٧٢٠) حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص نے ذکر کیا کہ وہ جل گیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق دریافت کیا تو اس نے ذکر کیا کہ اس رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرلیا ہے، حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ٹوکری لائی گئی جسے عَرْق کہتے ہیں اس میں کچھ کھجوریں تھیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : جلا ہوا شخص کہاں ہے ؟ ایک شخص کھڑا ہوا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو صدقہ کردو۔