(۱۲۷۴۳) حدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کُرَیْبٍ ، عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللَّہُ عَنْہُما ، عَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللہِ الْجُہَنِیِّ ، أَنَّہُ حَدَّثَتْہُ عَمَّتُہُ ، أَنَّہَا أَتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، تُوُفِّیَتْ أُمِّی وَعَلَیْہَا مَشْیٌ إلَی الْکَعْبَۃِ نَذْرٌ ، فَقَالَ : ہَلْ تَسْتَطِیعِینَ أَنْ تَمْشِیَ عَنْہَا ؟ فَقَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ : فَامْشِ عَنْ أُمِّکَ ، فَقَالَتْ : أَیُجْزِئُ ذَلِکَ عَنْہَا ؟ فَقَالَ : نعم ، أَرَأَیْت لَوْ کَانَ عَلَیْہَا دَیْنٌ فَقَضَیْتہ ، ہَلْ کَانَ یُقْبَلُ مِنْک؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اللَّہُ أَحَقُّ بِذَلِکَ۔ (بخاری ۲۳۳۶)
(١٢٧٤٣) حضرت سنان بن عبداللہ الجھنی اپنی چچی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٖ ! میری والدہ فوت ہوگئیں ہیں ان کے ذمہ کعبہ پیدل جانے کی نذر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کیا تم طاقت رکھتی ہو کہ ان کی جگہ چل کر جاؤ ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اپنی والدہ کی طرف سے چل کر جاؤ، میں نے عرض کیا کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر ان پر قرض ہوتا جو تو ادا کرتی تو کیا وہ قرضہ تجھ سے قبول (وصول) کیا جاتا ؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔