(۱۲۷۹۳) حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ مِرْدَاسَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اللَّیْثِیِّ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو فَحدَّثَنَا ، قَالَ : مَا مِنْ أَحَدٍ یُہِلُّ إِلاَّ قَالَ اللَّہُ لَہُ : أَبْشِرْ ، فَقَالَ مِرْدَاسُ : یَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، فَوَاللَّہِ مَا یُبَشِّرُ اللَّہُ إِلاَّ بِالْجَنَّۃِ ، قَالَ : مَنْ أَنْتَ یَا ابْنَ أَخِی ؟ قَالَ : أَنَا مِرْدَاسُ ، قَالَ : قد کَانَ خِیَارُنَا یَتَتَابَعُونَ عَلَی ذَلِکَ۔
(١٢٧٩٣) حضرت مرداس بن عبد الرحمن اللیثی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس گیا آپ نے بیان کیا جو شخص حج میں تہلیل کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے فرماتے ہیں اس کو خوشخبری دے دو ، حضرت مرداس کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے ابو محمد ! اللہ کی قسم اللہ کی بشارت جنت کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے، آپ نے فرمایا : بھتیجے تو کون ہے ؟ میں نے عرض کیا مرداس، آپ نے فرمایا : ہمارے بڑے (جو ہم سے بہتر تھے) اسی پر موافقت فرماتے تھے۔