(۱۳۰۰) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی أُمِّ الْفَضْلِ ، وَمَعَہَا حُسَیْنٌ فَنَاوَلَتْہُ إیَّاہُ ، فَبَالَ عَلَی بَطْنِہِ ، أَوْ عَلَی صَدْرِہِ ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذہ مِنْہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ تُزْرِمِی ابْنِی ، لاَ تُزْرِمِی ابْنِی ، فَإِنَّ بَوْلَ الْغُلاَمِ یُرْشَحُ ، أَوْ یُنْضَحُ ، وَبَوْلَ الْجَارِیَۃِ یُغْسَلُ۔
(١٣٠٠) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام الفضل کے ہاں تشریف لائے۔ ام الفضل کے پاس حضرت حسین تھے، انھوں نے حضرت حسین حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیے تو انھوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ مبارک پر پیشاب کردیا۔ حضرت ام الفضل بچے کو پکڑنے لگیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، میرے بچے کو پیشاب سے نہ روکو، لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔