(۱۳۱۰۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ یحیی بْنِ الْجَزَّارِ ، وَعَنِ ابْنِ أذینۃ ، قَالَ : سُئِلَ عُمَرُ عَنِ الْعُمْرَۃِ وَہُوَ بِمَکَّۃَ ، مِنْ أَیْنَ أَعْتَمِرُ ؟ فَقَالَ : ائْتِ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ فَاسْأَلْہُ ، فَقَالَ : فَأَتَیْتُہُ ، فَقَالَ : مِنْ حِینَ أَبْدَأْتَ، یَعْنِی مِنْ مِیقَاتِ أَرْضِہِ، قَالَ: فَأَتَی عُمَرَ فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ: مَا أَجِدُ لَکَ إِلاَّ مَا قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ۔
(١٣١٠١) حضرت ابن اذینہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر مکہ میں تھے آپ سے دریافت کیا گیا کہ کہاں سے عمرہ کے لیے احرام باندھا جائے ؟ آپ نے فرمایا : حضرت علی کے پاس جاؤ اور ان سے دریافت کرو، کہتے ہیں پھر میں حضرت علی کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا جہاں سے ابتداء کرے یعنی اپنی زمین کے میقات سے احرام باندھ، وہ کہتے ہیں کہ میں پھر حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، حضرت عمر نے فرمایا : میں تیرے لیے حضرت علی کے اس جواب کے علاوہ کوئی اور بات نہیں پاتا۔