(۱۳۱۰۶) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ ، قَالَ : کُنْتُ قَاطِنًا بِمَکَّۃَ ، فَسَأَلْتُ مُجَاہِدًا : مِنْ أَیْنَ أُحْرِمُ ؟ قَالَ : مِنْ حَیْثُ شِئْتَ ، قُلْتُ : مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ ، فَإِنَّہَا حَدُّنَا ؟ قَالَ : إذَا کُنْتَ بِمَکَّۃَ فَأَحْرِمْ مِنْ حَیْثُ شِئْتَ ، وَإِذَا جِئْتَ مِنْ بَلَدٍ آخَرَ فَلاَ تُجَاوِزِ الْحَدَّ حَتَّی تُحْرِمَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَحْرَمَ مِنَ الْجِعْرَانَۃِ ، وَہُوَ مُقْبِلٌ مِنَ الطَّائِفِ۔
(١٣١٠٦) حضرت داو ‘ د بن ابو ھند فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں مقیم تھا میں نے حضرت مجاہد سے دریافت کیا کہ میں کہاں سے احرام باندھوں ؟ آپ نے فرمایا جہاں سے چاہو باندھ لو، میں نے عرض کیا ذات عرق سے باندھ لوں وہ ہماری حد ہے ؟ آپ نے فرمایا جب تم مکہ میں مقیم ہو تو جہاں سے چاہو احرام باندھ لو، اور جب کسی دوسرے شہر سے آؤ تو احرام باندھے بغیر میقات سے تجاوز نہ کرو، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے آتے ہوئے مقام جعرانہ سے احرام باندھا تھا۔