(۱۳۱۶۶) حدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : قُلْتُ : الَّذِینَ یَعْتَمِرُونَ فِی رَجَبٍ ثُمَّ یُقِیمُونَ حَتَّی یَحُجُّوا ، أَمُتَمَتِّعُونَ ہُمْ ؟ قَالَ : لاَ ، إنَّمَا الْمُتَمَتِّعُ مَنْ أَہَلَّ بِالْعُمْرَۃِ فِی أَشْہُرِ الْحَجِّ ، ثُمَّ أَقَامَ حَتَّی یَحُجَّ، فَذَلِکَ مُتَمَتِّعٌ وَعَلَیْہِ الْہَدْیُ ، أَوِ الصَّوْمُ إِنْ لَمْ یَجِدْ۔
(١٣١٦٦) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے دریافت کیا گیا کہ کچھ لوگ رجب کے مہینے میں عمرہ کرتے ہیں اور پھر وہ وہیں پر رہتے ہیں کہ حج بھی کرلیتے ہیں کیا وہ لوگ حج تمتع کرنے والے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں حج تمتع کرنے والا وہ شمار ہوگا جو حج کے مہینوں میں عمرہ کرے اور پھر حج تک وہیں مقیم رہے اور حج بھی کرے یہ شخص تمتع کرنے والا ہے، اس پر ھدی (جانور ذبح کرنا) بھی ہے اگر نہ پائے تو روزے رکھ لے۔