(۱۳۱۷۵) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَد ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ (ح) وَعَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللہِ ، یَصْدُرُ النَّاسُ بِنُسُکَیْنِ وَأَصْدُرُ بِنُسُکٍ وَاحِدٍ ؟ قَالَ : انْتَظِرِی ، فَإِذَا طَہُرْتِ ، فَاخْرُجِی إلَی التَّنْعِیمِ فَأَہِلِّی مِنْہُ ، ثُمَّ الْقَیْنَا عِنْدَ کَذَا وَکَذَا ، وَلَکِنَّہَا عَلَی قَدْرِ نَصَبِکِ ، أَوْ قَالَ : نَفَقَتِکِ ، أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسلم ۸۶۷۔ احمد ۶/۴۳)
(١٣١٧٥) حضرت ام المومنین حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سارے لوگ دو عبادتوں کے ساتھ آئے ہیں اور میں ایک عبادت کے ساتھ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو ٹھہر جا، جب تم حیض سے پاک ہو جاؤ تو تنعیم جاؤ وہاں سے احرام باندھ کر (عمرے کے لیے) آؤ پھر ہمیں فلاں فلاں جگہ پر ملنا لیکن اپنے حصے کے بقدر یا اپنے نفقہ کی بقدر فرمایا۔