(۱۳۲۳۱) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : إذَا أَہَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ فَأُحْصِرَ ، فَلیَبْعَثْ بِہَدْیِہِ ، فَإِنْ مَضَی جَعَلَہَا عُمْرَۃً ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ ، وَلاَ ہَدْیَ عَلَیْہِ ، وَإِنْ ہُوَ أَخَّرَ ذَلِکَ حَتَّی یَحُجَّ ، فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ وَعُمْرَۃٌ ، وَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ، فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ ، آخِرُہَا یَوْمُ عَرَفَۃَ۔
(١٣٢٣١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر وہ محصور ہوجائے تو اس پر ھدی ہے، پھر اگر اس کے لیے وقت نکل آئے تو اس کو عمرہ بنا لے اور آئندہ حج کرے لیکن اس پر قربانی نہیں ہے اور اگر وہ اس کو موخر کر دے یہاں تک کہ حج ہوجائے تو اس پر آئندہ سال حج اور عمرہ دونوں ہیں اور جو ھدی اس کو میسر ہو اور اگر وہ ھدی نہ پائے تو تین روزے اس طرح رکھے کہ آخری روزہ یوم عرفہ میں ہو۔