(۱۳۲۳۳) حدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سُوَیْد ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یَخْطُبُ ، فَقَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ ، وَاللَّہِ مَا الْمُتَمَتِّعُ بِالْعُمْرَۃِ إلَی الْحَجِّ کَمَا تَقُولُونَ ، وَلَکِنْ إنَّمَا الْمُتَمَتِّعُ بِالْعُمْرَۃِ إلَی الْحَجِّ ؛ أَنْ یُہِلَّ الرَّجُلُ فَیُحْصَرُ إمَّا مَرَضٌ ، أَوْ أَمْرٌ یَحْبِسُہُ حَتَّی تَذْہَبَ أَیَّامُ الْحَجِّ ، فَیَقْدَمُ فَیَجْعَلُہَا عُمْرَۃً وَیَتَمَتَّعُ بِحَجَّۃٍ إلَی الْعَامِ الْمُقْبِلِ ، وَیُہْدِی وَیَحُجُّ ، فَہَذَا الْمُتَمَتِّعُ بِالْعُمْرَۃِ إلَی الْحَجِّ۔
(١٣٢٣٣) حضرت عبداللہ بن زبیر نے خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اللہ کی قسم حج کا عمرہ کے ساتھ تمتع اس طرح نہیں ہے جس طرح تم لوگ کہتے ہو، بلکہ حج کا عمرہ کے ساتھ تمتع اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر اس کو مرض یا کوئی چیز محصور کر دے یہاں تک کہ ایام حج گذر جائیں پھر وہ آئے اور اس حج کو عمرہ میں تبدیل کرے اور آئندہ سال حج تمتع کرے اور ھدی بھی بھیجے (قربانی کرے) یہ ہے حج کا عمرہ کے ساتھ تمتع کرنا۔