(۱۳۲۳۸) حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ : کَانَ مُحَمَّدٌ یَقُولُ : إذَا افْترَضَ الرَّجُلُ الْحَجَّ فَأَصَابَہُ حَصْرٌ، فَإِنَّہُ یَبْعَثُ بِہَدْیِہِ ، فَإِذَا بَلَغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ ، حَلَّ مِنْ أَشْیَائَ وَحَرُمَ مِنْ أُخْرَی ، فَإِذَا کَانَ عَامُ قَابِلٍ أَہَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ ، فَإِنْ جَمَعَ بَیْنَہُمَا فَعَلَیْہِ الْہَدْیُ ، وَإِنْ شَائَ أَقَامَ حَتَّی یَبْرَأَ ، فَیَمْضِی مِنْ وَجْہِہِ فَیَطُوفُ بِالْبَیْتِ ، فَیُلْقِی عَنْہُ الْعُمْرَۃَ ، وَعَلَیْہِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ۔
(١٣٢٣٨) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے اوپر حج لازم کرلے پھر وہ محصور ہوجائے تو ھدی کا جانور بھیجے گا، پھر جب قربانی کا جانور اپنے مقام تک پہنچ جائے تو وہ کچھ اشیاء سے حلال ہوجائے گا، اور کچھ سے محرم رہے گا، پھر جب آئندہ سال آئے تو وہ حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھے گا، اور اگر دونوں کو جمع کرے تو اس پر قربانی بھی ہے، اور اگر وہ چاہے تو جب محصور ہو تو کچھ انتظار کرے پھر جب محصور ہونا ختم ہوجائے تو بیت اللہ جا کر عمرہ کرے اور آئندہ سال صرف عمرہ کرے۔