(۱۳۲۴۸) حدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَی رَجُلٌ عَبْد اللہ بْن عَمْرٍو فَسَأَلَہُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِہِ ؟ فَأَشَارَ لَہُ إلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمْ یَعْرِفْہُ الرَّجُلُ ، قَالَ شُعَیْبٌ : فَذَہَبْتُ مَعَہُ ، فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ : بَطَلَ حَجُّہُ ، قَالَ : فَیَقْعُدُ ؟ قَالَ : لاَ ، بَلْ یَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ فَیَصْنَعُ مَا یَصْنَعُونَ، فَإِذَا أَدْرَکَہُ قَابِلٌ حَجَّ وَأَہْدَی ، فَرَجَعَا إلَی عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَاہُ ، فَأَرْسَلَنَا إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ شُعَیْبٌ : فَذَہَبْتُ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَہُ ، فَسَأَلَہُ ؟ فَقَالَ لَہُ : مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ عُمْر ، فَرَجَعَ إلَیْہِ فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ : مَا تَقُولُ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِثْلَ مَا قَالاَ۔
(١٣٢٤٨) حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ ایک شخص نے حالت احرام میں بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے ؟ آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر کی طرف اشارہ کردیا کہ ان سے دریافت کرو، وہ شخص ان کو نہیں جانتا تھا، حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ان کے پاس گیا اور پھر ان سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کا حج باطل ہوگیا ہے، اس نے عرض کیا تو کیا وہ بیٹھ جائے ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ وہ لوگوں کے ساتھ جائے اور جس طرح لوگ کرتے ہیں اسی طرح کرتا رہے، پھر جب آئندہ سال آئے تو حج کی قضاء کرے اور قربانی کرے، حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ ہم دونوں حضرت عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں آئے اور آپ کو خبر دی، پھر حضرت ابن عمرو نے ہمیں حضرت ابن عباس کے پاس بھیجا، حضرت شعیب فرماتے ہیں کہ پھر میں اس کے ساتھ حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے ان سے دریافت کیا ؟ حضرت ابن عباس نے بھی وہی فرمایا جو حضرت ابن عمر نے فرمایا تھا، پھر وہ شخص حضرت ابن عمرو کے پاس واپس آیا اور آپ کو خبر دی، پھر اس شخص نے حضرت ابن عمرو سے دریافت کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا وہی جو ان دونوں حضرات کی ہے۔