(۱۳۲۶۶) حدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ مُجَاہِدًا ، وَعَطَائً عَنِ الْخُشْکَنَانَجِ وَالْخَبِیصِ الأَصْفَرِ ؟ فَکَرِہَاہُ ، قَالَ : فَسَأَلْتُ سَعِیدَ بْنَ جُبَیْرٍ ، فَقَالَ : تَدَّہِنُ بِالزَّیْتِ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ؟ قَالَ : قُلْتُ : لاَ ، قَالَ : فَتَدَّہِنُ بالسمن وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ؟ قُلْتُ : لاَ ، قَالَ : فَإِنَّ الْخُشْکَنَانَجَ قَدْ طُبِخَ بِالنَّارِ۔
(١٣٢٦٦) حضرت خصیف فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد اور حضرت عطائ سے خشکنانج روٹی اور زرد حلوہ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ دونوں نے اس کو ناپسند فرمایا : راوی کہتے ہیں کہ میں نے پھر حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا آپ نے فرمایا : کیا تو حالت احرام میں زیتون کا تیل استعمال کرتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، فرمایا : کیا تو حالت احرام میں گھی استعمال کرتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ نے فرمایا کہ بیشک خشک نانج روٹی تو آگ میں پکائی جاتی ہے۔