(۱۳۲۹۶) حدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعَطَائٍ : أَطْرَحُ الْقَمْلَۃَ تَدِبُّ عَلَیَّ ؟ قَالَ: نَعَمْ ، قَالَ : فَأَتَقَمَّلُ ؟ قَالَ : یُکْرَہُ أَنْ تُقَمِّلَ ثِیَابَکَ وَأَنْتَ مُحْرِمٌ ، قَالَ : قُلْتُ : الْقُرَادُ وَالْقَمْلَۃُ تَدِبُّ عَلَیَّ؟ قَالَ : انْبِذْ عَنْکَ مَا لَیْسَ مِنْکَ۔
(١٣٢٩٦) ایک شخص نے حضرت عطائ سے دریافت کیا کہ جوں میرے اوپر رینگے تو اس کو پھینک دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس شخص نے عرض کیا : میں جو ؤں کو ڈھونڈ کر مار دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں کپڑوں سے جو ؤں کو ڈھونڈ کر مارنے کو ناپسند کیا گیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ چچڑی اور جوں اگر میرے اوپر رینگے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کو پھینک کر دور کر دے تجھ پر کوئی جرمانہ نہیں ہے۔