(۱۳۳۴۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ طَاوُوسٍ ، قَالَ : مَا رَأَیْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ خَالَفَہُ أَحَدٌ فِی شَیْئٍ فَتَرَکَہُ ، حَتَّی یُقَرِّرَہُ ، فَخَالَفَہُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللہِ فِی الْمَرْأَۃِ تَطُوفُ ثُمَّ تَحِیضُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : تَنْفِرُ ، فَأَرْسَلُوا إلَی امْرَأَۃٍ کَانَ أَصَابَہَا ذَلِکَ فَوَافَقَتِ ابْنَ عَبَّاسٍ۔
(١٣٣٤١) حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس کو کبھی نہیں دیکھا کہ ابن عباس سے کسی نے مخالفت کی ہو تو انھوں نے اس شخص کو چھوڑ دیا ہو جب تک کہ مسئلہ کو اس کے سامنے ثابت نہ کرلیتے، حضرت جابر بن عبداللہ نے اس عورت کے بارے میں جس کو طواف کے بعد حیض آیا ہو آپ کی مخالفت کی (اختلاف کیا) حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ نکلے گی، پھر اس عورت کو بلایا جس کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا تھا، اس عورت نے حضرت ابن عباس کے قول کی موافقت کی۔