(۱۳۳۴۹) حدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ إسْمَاعِیلَ الأَسَدِیُّ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدٍ الطَّائِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : جَائَہُ بَعْضُ جِیرَانِہِ ، فَقَالَ : إنِّی قَدْ تَہَیَّأْتُ لِلْخُرُوجِ ، وَلِی جِیرَانٌ مُحْتَاجُونَ مُتَعَفِّفُونَ ، فَمَا تَرَی لِی ؟ أَجْعَلُ کِرَائِی وَجَہَازِی فِیہِمْ ، أَوْ أَمْضِی لِوَجْہِی لِلْحَجِّ ؟ فَقَالَ : وَاللَّہِ ، إِنَّ الصَّدَقَۃَ لَعَظِیمٌ أَجْرُہَا ، وَمَا یَعْدِلُ عِنْدِی مَوْقِفٌ مِنَ تِلْکَ الْمَوَاقِفِ شَیْئًا مِنَ الأَشْیَائِ۔
(١٣٣٤٩) حضرت شعبی کے پاس کچھ پڑوسی آئے اور عرض کیا کہ ہم حج کے لیے جانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے کچھ پاک دامن پڑوسی ہیں جو محتاج ہیں، آپ کی کیا رائے ہے ؟ ہم اپنا سامان وغیرہ ان کو دے دیں یا حج کے لیے چلے جائیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم صدقہ کا اجر بہت زیادہ ہے اور میرے نزدیک ان موقعوں اور جگہوں پر مال خرچ کرنے کے برابر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔