(۱۳۵۵۱) حدَّثَنَا إسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنْ صَوْمِ یَوْمِ عَرَفَۃَ؟ فَقَالَ: حجَجْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَصُمْہُ، وَحَجَجْتُ مَعَ أَبِی بَکْرٍ فَلَمْ یَصُمْہُ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُمَرَ فَلَمْ یَصُمْہُ ، وَحَجَجْتُ مَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ یَصُمْہُ ، وَأَنَا لاَ أَصُومُہُ ، وَلاَ آمُرُ بِہِ ، وَلاَ أَنْہَی عَنْہُ۔
(ترمذی ۷۵۱۔ ابن حبان ۳۶۰۴)
(١٣٥٥١) حضرت ابن عمر سے عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا، میں نے حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ حج کیا آپ نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا، میں نے حضرت عمر کے ساتھ حج کیا آپ نے بھی اسی دن روزہ نہیں رکھا، میں نے حضرت عثمان کے ساتھ حج کیا آپ نے بھی اس دن روزہ نہیں رکھا اور میں خود بھی نہیں رکھتا، باقی میں تمہیں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں۔