(۱۳۵۵۵) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، قَالَ : لاَ أَدْرِی سَمِعْتُہُ مِنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، أَوْ حُدِّثْتُ عَنْہُ ، قَالَ : أَتَیْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ بِعَرَفَۃَ وَہُوَ یَأْکُلُ رُمَّانًا ، وَقَالَ : أَفْطَرَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَۃَ ، وَسَقَتْہُ أُمُّ الْفَضْلِ لَبَنًا فَشَرِبَہُ ، وَقَالَ : لَعَنَ اللَّہُ فُلاَنًا ، عَمَدُوا إلَی أَیَّامِ الْحَجِّ فَمَحَوْا زِینَتَہُ ، وَقَالَ : زِینَۃُ الْحَجِّ التَّلْبِیَۃُ۔
(نسائی ۲۸۱۵۔ احمد ۱/۳۴۹)
(١٣٥٥٥) حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں عرفہ کے دن حاضر ہوا آپ انار تناول فرما رہے تھے، اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے دن روزہ نہیں رکھا اور حضرت ام فضل نے آپ کو دودھ پلایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے نوش فرمایا : پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : فلاں پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے ایام حج کا ارادہ کیا اور اس کی زینت کو مٹا کر رکھ دیا اور فرمایا حج کی زینت تلبیہ پڑھنا ہے۔