(۱۳۶۷۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُیَیْنَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : حجَجْتُ مَرَّۃً فَوَافَقْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ عَمْرِو بْنَ الْعَاصِ ، فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الإِحْرَامِ أَصَبْنَا شَیْئًا مِنَ الطِّیبِ ، فَقَالَ لِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَدِدْتُ أَنَّکَ لَمْ تَفْعَلْ ، إنِّی حَجَجْتُ مَرَّۃً مَعَ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ فَأَحْرَمَ مِنَ المَنْجَشانیۃ ، وَہِیَ قَرِیبَۃٌ مِنَ الْبَصْرَۃِ ، وَقَالَ لَنَا : عَلَیْکُمْ بِہَذَا الطِّینِ الأَبْیَضِ ، فَاغْسِلُوا بِہِ رُؤُوسَکُمْ عِنْدَ الإِحْرَامِ۔
(١٣٦٧٧) حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بار حج کا ارادہ کیا تو میں نے حضرت عبد الرحمن بن عمرو بن العاص کو پایا، جب احرام کا وقت آیا تو ہمیں کچھ خوشبو لگی ہوئی تھی، حضرت عبد الرحمن نے مجھ سے فرمایا : میرا خیال تھا کہ آپ اس طرح نہیں کرو گے، بیشک میں نے ایک بار حضرت عثمان بن ابو العاص کے ساتھ حج کیا اور مقام منجشانیہ جو بصرہ کے قریب ہے وہاں سے احرام باندھا، آپ نے ہمیں فرمایا : تم پر سفید مٹی کے اثرات ہیں اس لیے احرام باندھنے سے پہلے سروں کو دھو لو۔