(۱۳۷۷۷) حدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ کِلاَبِ بْنِ عَلِیّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَخِی جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قامَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمَرْوَۃِ وَبِیَدِہِ مشِقَصٌّ ، یُقَصِّرُ بِہِ مِنْ شَعْرِہِ وَہُوَ یَقُولُ : دَخَلَتِ الْعُمْرَۃُ فِی الْحَجِّ إلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، لاَ صَرُورَۃَ فِی الإِسْلاَمِ ، وَتُثَجُّ الإِبِلُ ثَجًّا ، وَعُجُّوا بِالتَّکْبِیرِ عَجًّا۔
(١٣٧٧٧) حضرت جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مروہ پر کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست مبارک میں نیزے کا پھل تھا جس سے آپ نے اپنے بال تھوڑے تھوڑے کاٹے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ارشاد فرما رہے تھے : میں نے قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ کے احکام کو حج کے احکام میں داخل کردیا ہے اسلام میں صرورہ (کنوار پن یا غیر حاجی شخص) نہیں ہے اور اونٹ کا خون بہایا جائے گا قربانی کرتے وقت اور تلبیہ اونچی آواز سے پڑھو۔