(۱۳۹۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی یَزِیدَ الْمَدَنِیِّ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَحَدُ الصَّیَّادِینَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عُمَرُ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ الْجَارَ ، یَتَعَاہَدُ طَعَامَ الرِّزْقِ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ؛ إنَّا نَرْکَبُ أَرْمَاثَنَا ہَذِہِ فَنَحْمِلُ مَعَنَا الْمَائَ لِلشَّفَۃِ ، فَیَزْعُمُ أُنَاسٌ أَنَّ مَائَ الْبَحْرِ لاَ یُطَہِّرُ ، فَقَالَ : وَأَیُّ مَائٍ أَطْہَرُ مِنْہُ۔
(١٣٩٠) ایک ماہی گیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت عمر مقام جار پر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین ! ہم اپنی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لیے تھوڑا سا پانی بھی لے لیتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سمندر کا پانی پاک نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے فرمایا اس سے زیادہ پاک پانی کون سا ہوسکتا ہے ؟