(۱۳۹۸۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِیِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إذَا رَمَیْتُمَ الْجَمْرَۃَ فَقَدْ حَلَّ لَکُمْ کُلُّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّسَائُ ، وَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُضَمِّخاً رَأْسَہُ بِالْمِسْکِ ، أَفَطِیبٌ ذَلِکَ ، أَمْ لاَ ؟۔ (احمد ۱/۳۶۹۔ ابویعلی ۲۶۸۸)
(١٣٩٨٧) حضرت ابن عباس ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم نے رمی کرلی تو اب تمہارے لیے عورتوں کے سوا سب چیزیں حلال ہوگئیں اور فرماتے ہیں کہ بیشک میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ کے سر پر مشک ملی ہوئی تھی، کیا اس میں خوشبو تھی یا نہ تھی (یعنی ظاہری بات ہے کہ اس میں خوشبو تھی لہٰذا عورتوں کے علاوہ اب سب حلال ہوچکا ہے) ۔