(۱۴۱۱۱) حدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْکِینٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاہِدًا ، وَکَبَّرَ رَجُلٌ أَیَّامَ الْعَشْرِ ، فَقَالَ مُجَاہِدٌ : أَفَلاَ رَفَعَ صَوْتَہُ ، فَلَقَدْ أَدْرَکْتُہُمْ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیُکَبِّرُ فِی الْمَسْجِدِ فَیَرْتَجُّ بِہَا أَہْلُ الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ یَخْرُجُ الصَّوْتُ إلَی أَہْلِ الْوَادِی حَتَّی یَبْلُغَ الأَبْطُحَ، فَیَرْتَجُّ بِہَا أَہْلُ الأَبْطُحِ، وَإِنَّمَا أَصْلُہَا مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ۔
(١٤١١١) حضرت مجاہد نے ایام عشر میں کسی شخص کو تکبیر کہتے ہوئے سنا تو آپ نے فرمایا : اس نے آواز کو بلند کیوں نہ کیا ! بیشک میں نے تو ان لوگوں کو پایا ہے کہ ان میں سے ایک شخص تکبیر مسجد میں کہتا تو اس کی آواز کی وجہ سے پوری مسجد لرز اٹھتی پھر وہ آواز اھل وادی پر نکلتی یہاں تک کہ مقام ابطح تک پہنچ جاتی اور آواز کی وجہ سے مقام ابطح لرز اٹھتا، اور بیشک ان سب کی بنیاد وہی ایک شخص ہوتا۔