(۱۴۱۴۸) حدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِیَ قَوْمًا فِیہِمْ حَادٍ یَحْدُو ، فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَکَتَ حَادِیہُمْ ، فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ فَقَالُوا : مِنْ مُضَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَأَنا مِنْ مُضَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا شَأْنُ حَادِیکُمْ لاَ یَحْدُو ؟ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، إنَّا أَوَّلُ الْعَرَبِ حُدَائً ، قَالَ : وَمِمَّ ذَلِکَ ؟ قَالُوا : إنَّ رَجُلاً مِنَّا وَسَمَّوْہُ لَہُ ، عزَبَ عَنْ إبِلِہِ فِی أَیَّامِ الرَّبِیعِ ، فَبَعَثَ غُلاَمًا لَہُ مَعَ الإِبِلِ ، قَالَ : فَأَبْطَأَ الْغُلاَمُ ، فَضَرَبَہُ بِعَصًا عَلَی یَدِہِ ، وَانْطَلَقَ الْغُلاَمُ وَہُوَ یَقُولُ : یَا یَدَاہُ ، یَا یَدَاہُ ، قَالَ : فَتَحَرَّکَتِ الإِبِلُ لِذَلِکَ وَنَشِطَتْ ، قَالَ : فَقَالَ لَہُ : أَمْسِکْ ، أَمْسِکْ ، قَالَ : فَافْتَتَحَ النَّاسُ الْحُدَائَ۔ (بیہقی ۲۲۸۔ بزار ۲۱۱۳)
(١٤١٤٨) حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک قوم سے ملاقات ہوئی جن میں حدی پڑھنے والے تھے، جب ان لوگوں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو ان کا حدی خوان خاموش ہوگیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کون سی قوم کے لوگ ہیں، لوگوں نے عرض کیا قبیلہ مضر میں سے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں بھی مضر میں سے ہوں۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تمہارے حدی خوان کو کیا ہوا ہے کہ وہ حدی نہیں پڑھتا ؟ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم عرب کے پہلے حدی خواں ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا یہ کس طرح شروع ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم میں ایک شخص تھا پھر اس کا نام لیا ایام ربیع میں اپنے اونٹ سے دور تھا، اس نے اپنے ایک غلام کو اونٹ کے ساتھ روانہ کیا، غلام کو دیر ہوگئی۔ اس پر اس نے غلام کے ہاتھ پر اپنی لاٹھی ماری تو غلام یہ کہتے ہوئے تیز تیز چلنے لگا کہ : ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ، غلام کے اس قول کی وجہ سے اونٹ میں بھی حرکت پیدا ہوئی اور وہ بھی تیز اور چست ہو کر چلنے لگا، اس شخص نے اس کو کہا رک جا، رک جا، پھر لوگوں نے (اس واقعہ کے بعد) حدی پڑھنا شروع کردی۔