(۱۴۱۷۹) حدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، قَالَ : دَفَعْتُ مَعَ حُسَیْنٍ بْنِ عَلِیِّ مِنَ الْمُزْدَلِفَۃِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُہُ یُلَبِّی یَقُولُ : لَبَّیْکَ حَتَّی انْتَہَی إلَی الْجَمْرَۃِ ، فَقُلْتُ لَہُ : مَا ہَذَا الإِہْلاَلُ ، یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِی عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ یُہِلُّ حَتَّی انْتَہَی إلَی الْجَمْرَۃِ ، وَحَدَّثَنِی : أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَہَلَّ حَتَّی انْتَہَی إلَیْہَا۔ (احمد ۱/۱۱۴۔ بزار ۵۰۰)
(١٤١٧٩) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسین بن علی کے ساتھ مزدلفہ سے روانہ ہوا، میں آپ سے مسلسل تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کرلی، میں نے آپ سے دریافت کیا اے ابو عبداللہ ! تلبیہ کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے اپنے والد حضرت علی سے تلبیہ سنا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ کی رمی کرلی، اور انھوں نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پڑھتے رہتے تھے۔