(۱۴۲۲۸) حدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : کَانَ عمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَاقِفًا بِعَرَفَۃَ ، فَقَالَ : أَیُّہَا النَّاسُ ، قَدْ جِئْتُمْ مِنَ الْقَرِیبِ وَالْبَعِیدِ ، وَإِنَّکُمْ وَفْدٌ غَیْرُ وَاحِدٍ ، وَإِنَّ السَّابِقَ لَیْسَ الَّذِی تَسْبِقُ دَابَّتُہُ ، وَلاَ بَعِیرُہُ ، وَإِنَّ السَّابِقَ مَنْ غَفَرَ اللَّہُ لَہُ ذَنْبَہُ ۔ فَنَادَاہُ رَجُلٌ : أَیْنَ أُصَلِّی الْمَغْرِبَ ؟ قَالَ : أَیْنَ أَدْرَکْتَ مِنْ وَادِیکَ ہَذَا۔
(١٤٢٢٨) حضرت عمر بن عبد العزیز عرفہ میں کھڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے اے لوگو ! تم لوگ قریب اور دور سے آئے ہو، بیشک تم لوگ ایک وفد (جماعت) میں نہیں ہو، تم میں پہلے جانے والا (سبقت لے جانے والا) وہ نہیں ہے جس کی سواری اور اونٹ نے اس کو آگے کردیا بلکہ سبقت لے جانے والا وہ ہے جس کے گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیئے، ایک شخص نے بلند آواز میں پوچھا کہ ہم مغرب کی نماز کہاں ادا کریں ؟ آپ نے فرمایا جس وادی میں تم مغرب کا وقت پالو وہیں ادا کرلو۔