(۱۴۲۵۶) حدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، قَالَ : صَلَّیْتُ خَلْفَ سَالِمٍ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ بِجَمْعٍ ، بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَیْنِ ، فَلَقِیتُ نَافِعًا فَقُلْتُ لَہُ : ہَکَذَا کَانَ یَصْنَعُ عَبْدُ اللہِ ؟ قَالَ : ہَکَذَا ، فَلَقِیتُ عَطَائً فَقُلْتُ : قَدْ کُنْتُ أَقُولُ لَہُمْ لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِإِقَامَۃٍ۔
(١٤٢٥٦) حضرت عبد الکریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم کے پیچھے مغرب و عشاء کی نماز مزدلفہ میں ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ ادا کی، میری ملاقات حضرت نافع سے ہوئی، میں نے ان سے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ نے اس طرح کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اسی طرح ہے پھر میری حضرت عطائ سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے کہا : تحقیق میں ان سے کہہ چکا ہوں کہ کوئی نماز بغیر اقامت کے نہیں ہے۔