(۱۴۲۹۵) حدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّہُ کَانَ لَہُ فُسْطَاطَانِ ؛ أَحَدُہُمَا فِی الْحَرَمِ وَالآخَرُ فِی الْحِلِّ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یُصَلِّیَ صَلَّی فِی الَّذِی فِی الْحَرَمِ ، وَإِذَا کَانَتْ لَہُ الْحَاجَۃُ إلَی أَہْلِہِ ، جَائَ إلَی الَّذِی فِی الْحِلِّ ، فَقِیلَ لَہُ فِی ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : إنَّ مَکَّۃَ مَکَّۃُ۔
(١٤٢٩٥) حضرت عبداللہ بن عمرو کے دو خیمے ہوتے، ایک خیمہ حرم میں اور دوسرا خیمہ حرم کے باہر، اگر نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اس خیمہ میں پڑھتے تو جو حرم میں ہوتا اور اگر ان کو گھریلو ضرورت پیش آتی تو اس خیمہ میں تشریف لے جاتے جو حرم سے باھر ہوتا، ان سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا کہ بیشک مکہ تو مکہ (قابل احترام و عظمت) ہے۔