(۱۴۴۹۶) حدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِینِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : کُنَّا نَسِیرُ مَعَ عُثْمَانَ ، فَسَمِعَ رَجُلاً یُلَبِّی بِہِمَا جَمِیعًا ، فَقَالَ عُثْمَانُ : مَنْ ہَذَا ؟ فَقَالُوا : عَلِیٌّ، قَالَ : فَأَتَاہُ عُثْمَانُ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّی نَہَیْتُ عَنْ ہَذَا ؟ فَقَالَ : بَلَی ، وَلَکِنْ لَمْ أَکُنْ لأَدَعَ فِعْلَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِکَ۔ (بخاری ۱۵۶۳۔ احمد ۱/۱۳۵)
(١٤٤٩٦) حضرت مروان بن حکم فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عثمان کے ساتھ جا رہے تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی کہ وہ حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھ رہا ہے حضرت عثمان نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا حضرت علی ہیں، حضرت عثمان آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ کیا آپ کے علم میں نہیں ہے کہ میں نے اس سے منع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں (میرے علم میں ہے) لیکن میں آپ کی بات کی وجہ سے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فعل کو نہیں چھوڑ سکتا۔