(۱۴۵۲۰) حدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ، عَن أَبِی حَمْزَۃَ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ: نُسُکَانِ أَحَبُّ إلَیَّ أَنْ یَکُونَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا شَعَثٌ وَسَفَرٌ ، قَالَ : فَسَافَرَ الأَسْوَدُ ثَمَانِینَ مَا بَیْنَ حَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ ، لَمْ یَجْمَعْ بَیْنَہُمَا ، وَسَافَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ سِتِّینَ مَا بَیْنَ حَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ ، لَمْ یَجْمَعْ بَیْنَہُمَا۔
(١٤٥٢٠) حضرت عبداللہ بن مسعود ارشاد فرماتے ہیں کہ دو ارکان اور عمل میرے نزدیک ہر چیز سے زیادہ پسندیدہ ہیں، پراگندہ حال ہونا اور سفر کرنا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت الاسود نے حج اور عمرہ کے درمیان اسی بار سفر کیا لیکن کبھی ان کو جمع نہیں کیا اور حضرت عبد الرحمن بن الاسود نے ساٹھ سفر کیے لیکن کبھی حج وعمرہ کو جمع نہ فرمایا۔