(۱۴۶۸۱) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ ، یَقُولُ : لَمَّا قَدِمْتُ مِنَ الْبَحْرَیْنِ لَقِیَنِی قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَسَأَلُونِی عَنِ الْحَلاَلِ یَصِیدُ الصَّیْدَ فَیَأْکُلُہُ الْحَرَامُ ؟ فَأَفْتَیْتُہمْ بِأَکْلِہِ ، فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ فَسَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ ؟ فَقَالَ : لَوْ أَفْتَیْتَہُمْ بِغَیْرِہِ مَا أَفْتَیْتَ أَحَدًا أَبَدًا۔
(١٤٦٨١) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب میں بحرین سے واپس آیا تو مجھے اھل عراق کی ایک قوم ملی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ حلال شخص کا شکار کیا ہوا جانور محرم کھا سکتا ہے ؟ میں نے ان کو کھانے کا فتویٰ دیا، پھر میں حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ سے اس کے متعلق رائے لی ؟ آپ نے فرمایا (کہ تو نے صحیح فتویٰ دیا) اگر تو ان کو اس کے علاوہ کوئی فتویٰ دیتا تو تجھ سے کوئی بھی کبھی بھی فتویٰ نہ لیتا۔