(۱۴۷۵۲) حدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِنَافِعٍ : مَتَی کَانَ ابْنُ عُمَرَ یَرُوحُ ؟ قَالَ : رَسُولُہُ عِنْدَ الإِمَامِ ، فَإِذَا رَاحَ ، رَاحَ ، عَجَّلَ ، أَوْ أَخَّرَ ، قَالَ : وَکَانَ لاَ یَخْرُجُ حَتَّی یَطُوفَ سبْعًا ، وَکَانَ یُحِبُّ أَنْ لاَ یُصَلِّیَ الظُّہْرَ إِلاَّ بِمِنًی ، قَالَ : وَأَخَّرَ الأَمِیُر مَرَّۃً ، فَصَلَّی دُونَ مِنًی۔
(١٤٧٥٢) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے عرض کیا کہ حضرت ابن عمر کب منیٰ جاتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ان کا قاصد امام کے پاس ہوتا، جب وہ چلتا تو آپ بھی چلتے، چاہے وہ جلدی کرے یا تاخیر، اور وہ طواف کے سات چکر مکمل کرنے سے پہلے نہیں نکلتے تھے، اور آپ ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرنا پسند کرتے تھے، ایک دن امیر نے تاخیر کردی تو آپ نے ظہر کی نماز منیٰ سے پہلے ہی پڑھ لی۔